مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کی جوہری تنصیبات سے متعلق اپنے مسودہ رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ فروری 2025 کے بعد بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے علاوہ ایران کی اعلان کردہ جوہری تنصیبات میں کوئی تصدیقی سرگرمی انجام نہیں دی جا سکی۔
ایجنسی کے مسودہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون 2025 کے بعد ان جوہری ذخائر کی نگرانی ممکن نہیں رہی جو ان تنصیبات میں موجود تھے جنہیں حملوں میں نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ادارہ اس بات کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے کہ ایران کے جوہری مواد کو کسی فوجی مقصد کے لیے منتقل کیا گیا ہے یا نہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق خنداب کے بھاری پانی کے مرکز کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ اصفہان کے زیر زمین ذخیرہ گاہ کے داخلی راستوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت دیکھی گئی ہے جہاں 60 فیصد افزودہ یورینیم ذخیرہ کیے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
آئی اے ای اے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ادارہ اصفہان میں ایندھن افزودگی مرکز کی موجودہ صورتحال اور قانونی حیثیت سے آگاہ نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون 2025 کے بعد سے ایران نے ان تنصیبات تک رسائی کی اجازت نہیں دی جنہیں فوجی کارروائیوں میں نقصان پہنچا، جبکہ ایران نے اضافی پروٹوکول پر عمل درآمد بھی روک رکھا ہے۔
آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ وہ ضروری اجازت ملتے ہی ایران میں حفاظتی نگرانی کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی ذرائع نے آئی اے ای اے کی رپورٹ کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مؤقف امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ اور ان کے سیاسی مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں پرامن مقاصد کے لیے ہیں اور ماضی میں بھی آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کیا جاتا رہا ہے، تاہم فوجی حملوں اور جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق جوہری تنصیبات کی سلامتی اور ملازمین کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے نگرانی کے طریقہ کار پر فیصلے کیے گئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ